شادی کا لڈو

لاہور(ویب ڈیسک)شادی دنیا کا ایک دلچسپ ترین موضوع ہے‘ کہا جاتا ہے شادی کرنے والا اور نہ کرنے والے دونوں پچھتاتے ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے پہلی شادی کرنے والا عقل مند اور دوسری شادی کرنے والا بے وقوف ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود دنیا کا ہر مرد یہ بے وقوفی کرنا چاہتا ہے۔

شادی کا لڈو
                                                                                                                   شادی کا لڈو

شادی کا لڈو

کسی نے کسی بزرگ سے پوچھا ”جناب زندگی کے کس حصے تک مرد میں دوسری شادی کی خواہش سلامت رہتی ہے“ بزرگ نے اپنی لمبی اور سفید داڑھی پر ہاتھ پھیر کر جواب دیا ”میرا خیال ہے مرد کے سوئم تک اس کے اندر یہ خواہش موجود رہتی ہے“ دنیا میں شادیوں کے بڑے بڑے دلچسپ ریکارڈ بھی موجود ہیں مثلاً انڈیا کی سٹیٹ کیرالہ کے فلپس تھامس اور سو ساما تھامس کی شادی کو دنیا کی طویل مدت تک قائم رہنے والی شادی کااعزاز حاصل ہے۔ یہ دونوں اٹھاسی سال اور چار ماہ تک میاں بیوی رہے۔ کیلیفورنیا کے گلے نن وولف نے انتیس شادیاں کر کے امریکا میں ریکارڈ قائم کیا‘ اس نے ایک ایسی شادی بھی کی جو صرف انیس دن قائم رہی جبکہ اس کی ایک بیوی نے گیارہ سال تک اس کا ساتھ دیا۔ آک ٹا ویو گیولن اور ایڈریانا نے بیاسی سال تک اپنی منگنی برقرار رکھ کر دنیا کو حیران کر دیا۔ لینڈا ٹیلر نے اوپر نیچے تئیس شادیاں کر کے دنیا میں سب سے زیادہ شادیاں کرنے والی خاتون کا اعزاز حاصل کیا۔ اس کی ایک شادی صرف چھتیس گھنٹے قائم رہی۔ 2006 ء میں ایک سو پانچ سال کے سوڈر مارٹو

نے بائیس سال کی ایلی ریمٹ کے ساتھ شادی کر کے ایک ریکارڈ قائم کیا۔ اسی طرح فرانس کے چھیانوے سال کے فرانکوس فرینڈیز نے چورانوے سال کی میڈلین کے ساتھ شادی کر کے ریکارڈ قائم کیا۔ ایک امریکی جوڑے لورن بلیئر اور ڈیوڈ نے ایک دوسرے کے ساتھ تراسی مرتبہ شادی کر کے ریکارڈ قائم کیا۔ اسی طرح چھ سو پنتیس کلو گرام کے جان براور نے پچاس کلو کی جین تی کے ساتھ شادی کر کے ریکارڈ قائم کیا۔ دنیا میں سب سے مہنگی شادی لکمشی متل کی بیٹی ونیشا متل کی شادی تھی۔ اس شادی پر پچپن ملین ڈالرز خرچ ہوئے تھے۔ دنیا میں سب سے زیادہ بچے پیدا کرنے والے جوڑے کاتعلق روس کے ساتھ تھا۔ فیڈور کی بیوی ویلین ٹینا نے چالیس سال میں انہتر بچے پیدا کئے تھے۔ اس نے سولہ مرتبہ دو‘ دو بچے۔ سات مرتبہ تین‘ تین بچے اور چار مرتبہ چار‘ چار بچے پیدا کئے تھے۔ اسی طرح دنیا کا لمبا ترین جوڑا ہالینڈ میں رہتا ہے۔ مردولکو کا قد سات فٹ جبکہ بیوی کی شا ساڑھے چھ فٹ لمبی ہے اور یہ دونوں ڈانسر ہیں۔ دنیا کا چھوٹا ترین قد میں چھوٹا ترین جوڑا برازیل سے تعلق رکھتا ہے۔ مرد ڈگلس سلوا کا

قد تین فٹ جبکہ خاتون لنڈیا روچا دو فٹ اور گیارہ انچ لمبی ہے۔ یہ آج کے ریکارڈ ہیں۔ ہم اگر ماضی میں چلے جائیں تو اکبر اعظم کے وزیر مان سنگھ جس کے نام پر ہمارا مانسہرہ شہر آباد ہوا تھا‘اس کی پندرہ سو بیویاں اور چار ہزار بچے تھے اور اس نے ان کا ریکارڈ رکھنے کیلئے باقاعدہ دفتر بنا رکھا تھا۔ بس گزارہ کر لو کبھی سوچا ہے کہ ہم انسان کتنی آسانی سے کہہ دیتے ہیں کہ بس اتنا کام کر لو کہ گزارہ چل جائے۔ کتنی بار ہم نے طلبہ سے یہی بات سنی ہے کہ اتنا پروجیکٹ بنا لو کہ گزارہ چل جائے۔ بس اتنی تیاری کر لو کہ پاس ہو جاؤ۔ اتنا آفس کا کام کر لو کہ کوئی تمہیں آگے سے بات نہ کر سکے۔ پاکستانی تو خاص طور پر ہر بات ، ہر کام میں یہی کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ ہر کام اتنا کر لو کہ گزارہ چل جائے۔ کبھی کبھی جب آفس میں کوئی نیا ایسا کارکن آجائے جو اصل میں کام کرنے لگے یا محنت کرتا ہو تو سب اس کو ایسے پڑ جاتے ہیں کہ اس کا جینا دوبھر کر دیتے ہیں۔ جو بھی کام زیادہ کرتا ہے، باقی سب اس کو لعن طعن کرتے

ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ بے وقوف ہے باقیوں کے لیے بھی مصیبت کھڑی کر رہا ہے۔ کبھی یہ سوچا ہے کہ کوئی درخت کیوں آدھے قد تک پہنچ کر رک نہیں جاتا کہ چلو بس ٹھیک ہے گزارہ چل رہا ہے۔ درخت زمین سے جتنا پانی اور ذرائع اکٹھے کر سکتا ہے، وہ کرتا ہے، ان کو ذخیرہ کرتا ہے اور ان کا جتنا بہترین استعمال کر سکتا ہے، کرتا ہے۔ جتنا لمبا اور قد آور ہو سکتا ہے، اتنا ہوتا جاتا ہے۔ کبھی نہیں رکتا آخری وقت تک اور اگتا ہے، مزید بڑا ہوتا جاتا ہے۔ تو انسان نے خلیفہ ہوتے ہوئے یہ کیسے سوچ لیا کہ بس روز کا اتنا اور ایسا کام ٹھیک ہے۔ بس گزارہ چل جائے۔ جب اللہ نے جنت بنائی تو بولا کہ اے مسلمان جنت الفردوس کی تمنا کر، اس کے لیے محنت کر، عبادت کر تو پھر ہم یہ کیسے سوچ لیتے ہیں کہ بس اتنا کام کر لو کہ گزارہ چل جائے۔ کامیابی ناکامی، دنیا، پیسہ، مال و دولت سب ہیچ ہے، ان سب کی کوئی اہمیت، وقعت ، اصلیت نہیں ہے۔ یہ سب سراب ہے۔ لیکن کوئی انسان اپنے آپ کے ساتھ اتنا سنگین مزاق کیسے کر سکتا ہے کہ اس کو جو خوبیاں ملی ہیں، وہ ان کا پورا پورا استعمال کرکے شکر بجا لانے کی بجائے کہتا ہے کہ بس گزارہ چل جائے۔قرآن میں اللہ نے ’ایکم احسن عملا‘ کسی اور مخلوق کے لیے نہیں فرمایا، یہ بنی نوع انسان کو تلقین ہے کہ جو بھی کام کرو اپنی پوری سکعت کے مطابق کرو۔ ہر ایک کے اندر بہت سے عیب اور کمزوریاں ہوتے ہیں مگر اپنی تو پوری جان لگاؤ۔ جتنی قومیں آج دنیا میں اپنا مقام بنا ئے ہوئے ہیں، ان سب نے کبھی گزارہ چلاؤ کی فلاسفی پر عمل درآمد نہیں کیا تھا۔ جو کام کرو پورا کرو۔ ہر کام میں اپنی پوری جان لگا دو۔ یا تو کام کرو یا نہ کرو تاکہ کوئی دوسرا اس کو بہترین طریقے سے انجام دے دے۔ خدارہ یہ گزارہ چلانے والی بات کرنا بند کردو۔

Please follow and like us:

Related posts

Leave a Comment